اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ میں وفاداری برائے مزاحمت دھڑے کے رکن علی مقداد نے کہا ہے کہ مزاحمت لبنان کو اسرائیلی جارحیت سے بچاتی رہے گی اور کوئی بھی طاقت اسے اندرونِ ملک یا بین الاقوامی سطح پر ختم نہیں کر سکتی۔
لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، علی مقداد نے جنوبی بیروت کے قریب قصبہ حزین میں حزب اللہ کے زیرِ اہتمام ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان “گریٹر اسرائیل” منصوبے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہے اور کسی بھی صہیونی عنصر کو لبنانی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اب تک اپنی جارحانہ کارروائیاں بند نہیں کیں اور مزاحمت دشمن کو سکیورٹی یا انٹیلی جنس کے ذریعے لبنان کے اندر نفوذ کا کوئی موقع نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مزاحمت نے ماضی میں لبنان کا دفاع کیا، وہ آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
علی مقداد نے زور دیا کہ لبنان کے تمام طبقات کو باہمی گفت و شنید کے لیے ایک میز پر آنا چاہیے، کیونکہ اسرائیل تمام لبنانیوں کا مشترکہ دشمن ہے اور وہ مختلف فرقوں یا طبقات میں کوئی فرق نہیں کرتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن لبنان اس منصوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ ان کے مطابق، ماضی کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ مزاحمت صہیونی عناصر کو لبنان میں داخل ہونے سے روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرونز کی پروازوں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ ایک سال قبل جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا، تاہم زمینی حقائق اسرائیلی حملوں اور لبنانی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، امریکہ کی حمایت سے اسرائیل بیروت پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ لبنان میں اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ آگے بڑھایا جا سکے، جبکہ اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں۔
آپ کا تبصرہ